
راولپنڈی : سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ایک بہن عظمیٰ خان سے ملاقات کرادی گئی جبکہ دو بہنوں اور وکیل سمیت کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ 29 روز بعد ہونیوالی ملاقات کے بارے میں عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان کی صحت الحمد للہ ٹھیک ہے مگر وہ بہت غصے میں تھے اور انکشاف کیا کہ انہیں ذہنی ٹارچر کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے تمام اقدامات کا ذمہ دار ایک شخص ہے کو ٹہرایا۔
عظمیٰ خان نے کہا کہ عمران خان بڑے غصے میں تھے۔ انہیں سارا دن کمرے میں بند رکھا جاتا ہے اور کبھی کبھی باہر نکالتے ہیں۔ عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان نےکہا کہ پہلے افغانستان کو دھمکیاں دیں، پھر ڈرون حملے کیے اور پھر بے عزتی کرکے نکالا ایسا کرنے سے دہشت گردی بڑھے گی ختم نہیں ہوگی۔ عظمی خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ایک شخص کی پالیسیز کی وجہ سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے اور دہشت گردی بڑھ رہی ہے، یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے کہ دنیا انہیں مجاہد کہہ سکے، یہ ایکسٹینشن مافیا، چینی مافیا، لینڈ مافیا یہ مینڈیٹ چور آپ کو غلام بنا کر رکھیں گے اگر آپ آزادی چاہتے ہیں تو آپ کو اٹھنا اور لڑنا پڑے گا۔
عظمی خان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی عزت کرتا ہوں، پارٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کے سامنے احتجاج کرے اور کوشش کرے کہ ان کا بطور قائد حزب اختلاف نوٹی فکیشن جاری ہو، میں حیران ہوں کہ ابھی تک نوٹی فکیشن جاری نہیں ہوئے، تحریک کی ذمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دی ہے، وہ اتحاد کے لیڈرز ہیں۔


































