
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈیز کی تیاری مکمل کر لی ہے، مہنگائی میں حالیہ اضافہ صرف پاکستان کا نہیں عالمی مسئلہ ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ پوری دنیا میں مہنگائی کا ذکر ہو رہا ہے، دنیا بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال غیر معمولی آفت کا سامنا کیا ، دنیا ایک دم سے بند ہوئی، اشیاء کی فراہمی زیادہ تھی، استعمال کرنے والے کم ہو گئے، ہم نے ایسی حکمت عملی اختیار کی جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔ جب دنیا معمول پر آئی تو اشیاءخوردونوش کی طلب بڑھی اور قلت ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ 12 ماہ پہلے ستمبر 2020ءسے لے کر ستمبر 2021ءکی نسبت دنیا میں مختلف اشیا کی قیمتوں پر جو اثر پڑا اس کی لسٹ آئی، دنیا میں کروڈ آئل میں 81.55 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پاکستان میں 55.17 فیصد اضافہ ہوا، بین الاقوامی دنیا میں گیس کی قیمت میں 135 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پاکستان کی ڈومیسٹک گیس کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا۔ چینی کی قیمت میں عالمی منڈی میں 53 فیصد جبکہ پاکستان میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔
اسد عمر نے امریکا، چین اور بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں ریکارڈ مہنگائی ہوئی جہاں کبھی مہنگائی کی شرح کا اتنا تصور نہیں تھا۔ وفاقی وزیر نے ورلڈ بینک کے ڈیٹا کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12ماہ کے دوران خام تیل کی قیمت 81.55 فیصد جبکہ پاکستان میں اسی عرصے میں 17.55 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ایل این جی اور گیس کی قیمتوں میں 135 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان میں قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والی گیس کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی جبکہ ایل این جی کی قیمت میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ عالمی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمت میں 48 فیصد جبکہ پاکستان میں 38 فیصد اضافہ ہوا، مقامی منڈی میں چینی کی قیمت میں 15 فیصد اور عالمی سطح پر 53 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان کے مقابلے میں نئی دہلی میں پٹرول کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، اس کے علاوہ دیگر اشیا ضروریہ کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔
اسد عمر نے مہنگائی کا طوفان روکنے کے لئے اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات سے متعلق بتایا کہ گزشتہ برس نومبر میں پٹرول پر جی ایس ٹی 17 فیصد لگایا گیا اور ہماری پی ڈی ایل 30 روپے لیٹر تھی۔انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل پر جی ایس ٹی 17 فیصد سے کم کر کے بالترتیب 6.8 اور 10.3 فیصد کردیا گیا۔آٹے کی قیمت سے متعلق وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پنجاب اور سندھ ضرورت سے زائد پیداوار ہوتی ہے، اس وقت پنجاب اور سندھ کے اندر فروخت ہونے والے 20 کلو تھیلے پر 290 روپے کا فرق ہے۔ انہوں نے حکومت سندھ پر زور دیا کہ وہ گندم کی ریلیز کردے تاکہ سندھ میں آٹے کی قیمت میں نمایاں کمی آئے۔
انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل پر جنرل سیلز ٹیکس اورکسٹم ڈیوٹی میں کمی کردی ہے جس سے 45 روپے فی لٹر تک سستا ہوجائے گا۔ تین لاکھ ٹن چینی درآمد کی جائے گی عوام کو نوے روپے کلو ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئند چند روز میں ٹارگٹڈ سبسڈی کی تفصیلات سامنے آجائیں گی، اس ضمن میں ساری تیاری کرلی گئی ہے اور جلد ہی وزیر اعظم عمران خان اس کا اظہار کریں گے، نومبر کے آخر تک یہ ریلیف ملنا شروع ہوجائےگا۔


































