
ماسکو : نائجر کے معاملے پر بھی یورپ و امریکا اور روس آمنے سامنے آگئے ہیں۔ روس نے نائجر میں کسی بھی فوجی مداخلت سے خبردار کیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے یورپ نواز مغربی افریقا کے بلاک کو وارننگ دی کہ فوجی مداخلت سے نائجر کو عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور ملک کو طویل تصادم کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کا یہ بیان مغربی افریقی ممالک کی جانب سے فوجی مداخلت کیلئے ریزرو فورس کو فعال کرنے کے پیش نظر سامنے آیا۔ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے نائجر کے سابق صدر محموداسوفو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور کہاکہ فوجی جنتا کی جانب سے صدر بازوم کو رہا کرنے سے انکار پر مایوسی ہوئی ہے۔
دوسری جانب ہزاروں نائیجیرین باشندوں نے دارالحکومت میں فرانسیسی فوجی اڈے کے قریب احتجاج کیا اور فرانسیسی فوجیوں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ملک کے اندرونی معاملات میں پیرس کی مداخلت پر اعتراض کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔


































