
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل کی حمایت ترک کرنے تک امریکا سے مذاکرات ممکن نہیں۔ تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضے کی سالگرہ کے موقع پر طلبا سے خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ اگر امریکی حکومت معلون صیہونی حکومت کے لئے اپنی حمایت پوری طرح ختم کردے اپنے فوجی اڈے علاقے سے باہرنکال لے اور علاقے کے ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت بند کردے تو اس صورت میں ایران کے ساتھ تعاون کے لئے امریکی درخواست پر غور کیا جاسکتا ہے وہ بھی فوری طور پر نہیں بلکہ اس بارے میں کچھ سوچا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سے ایران کے اختلافات سیاسی نہیں نظریاتی اور اصولی ہیں۔ امریکا کی تکبر پسند فطرت فرمانبرداری کے سوا کچھ قبول نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی امریکی حکومت قوموں کے وسائل اور قدرتی ذخائر پر قبضہ کرکے ان کی تقدیر کی مالک بننے کو اپنا حق سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چار نومبر کی تاریخ قومی دستاویزات اور ایران کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے درج ہوجانی چاہئے۔ اس دن امریکا کی سامراجی حکومت کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آگیا تھا۔ تہران میں امریکی سفارتخانہ سازش کے مرکز میں تبدیل ہوچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات کوئی فرد یا حکومت اپنے آپ کو برتر سمجھتی ہے لیکن دوسروں کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچاتی اور اس صورت میں دشمنی کا باعث نہیں بنتی۔ لیکن بعض اوقات کوئی حکومت جیسے اپنے زمانے میں برطانوی حکومت اور آج کی امریکی حکومت جن ممالک کی حکومتیں طاقتور اور عوام بیدار نہ ہوں وہاں اپنے فوجی اڈے بنالے یا قوموں کے تیل کے ذخائر اور ديگر قدرتی وسائل کو لوٹنا شروع کردے، ہم استکبار کی اس کی شکل کے دشمن ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔
ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ اگر ایران مضبوط ہو جائے اور دشمن یہ سمجھ لے کہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا تو ملک حقیقی معنوں میں محفوظ ہو جائے گا۔


































