
گڑگاؤں : بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر گڑگاؤں میں نماز جمعہ کھلے مقامات پر پڑھنے کا تنازع اس ہفتے بھی جاری رہا۔ہندو انتہا پسندوں نے شہر کے سیکٹر 12 کے نامزد مقام پرمسلسل دوسرے ہفتے بھی جمعہ کی نماز نہیں ہونے دی۔ مسلمانوں کو نماز سے روکنے کے لیے ہندو گروپس نے گراؤنڈ پر قبضہ کرلیا۔ انتہا پسند صبح جمع ہوئے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ یہاں والی بال کورٹ بنارہے ہیں۔گذشتہ جمعہ ہندو جماعتوں نے اسی گراؤنڈ میں گووردھن پوجا کی تھی اور گراؤنڈ کے اندر اور اطراف میں گائے کے گوبر کے اُپلے پھیلادئے تھے۔اس جمعہ بھی ہندو انتہا پسندوں نے کھلے اور عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کے خلاف احتجاج کیا۔ جمعہ نماز کے وقت جے شری رام کے نعرے لگائے جس کی وجہ سے ضلع میں 5منظور شدہ جگہوں پر نماز نہیں ہوسکی۔ دارالحکومت نئی دہلی کے پڑوسی شہر گڑگاؤں میں انتظامیہ ہندو انتہا پسندوں کے احتجاج پر 37 میں سے8 کھلے مقامات پر نماز پڑھنے کی اجازت واپس لے لی۔ یہ وہ مقامات تھے جو ہندوؤں اور مسلمانوں نے 2018 میں اسی طرح کے مظاہروں کے بعد اتفاق رائے سے نامزد کیے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ قدم اعتراضات کے بعد اٹھایا گیا ہے اگر ایسے ہی اعتراضات دوسرے مقامات پر بھی ہوئے تو وہاں بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مقامی مسلم رہنما کا کہنا ہے کہ 2018 سے پہلے پورے ضلع میں 108 نامزد مقامات تھے جہاں آپ جمعے کی نماز پڑھ سکتے تھے لیکن یہ کم ہو کر 37 ہو گئے اور اب انھیں مزید کم کر دیا گیا ہے۔


































