
میڈرڈ : یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سابق سربراہ جوزپ بوریل نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ غزہ پر گرنے والے آدھے بم یورپی یونین نے فراہم کیےہیں۔ اسپین میں تقریب سے خطاب میں بوریل نے کہا کہ یورپ دوسری جنگ عظیم کے بعد نسلی صفائی کی سب سے بڑی کارروائی کا مشاہدہ کر رہا ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کے خاتمے کے بعد غزہ کو چھٹیوں کا تفریحی مقام بنانا ہے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اسرائیلی اقدامات پر اثر انداز ہونے کے ذرائع ہونے کے باوجود ایسا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ یورپی یونین وہ نہیں کر رہی جو وہ کر سکتی ہے۔ بوریل نے یورپ کی نوجوان نسل کو خبردار کرتے ہوئے یورپ کے جلد سے جلد مالی اور فوجی انضمام پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک انضمام کریں یا پھر ٹرمپ جیسے آقاؤں اور پیوٹن جیسے غاصب کی تشکیل کردہ دنیا میں یورپی تہذیب کے خاتمے کا خطرہ مول لیں۔


































