Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

غزہ پر گرنے والے آدھے بم یورپی یونین نے فراہم کیے، جوزف بوریل

میڈرڈ : یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سابق سربراہ جوزپ بوریل نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ غزہ پر گرنے والے آدھے بم یورپی یونین نے فراہم کیےہیں۔ اسپین میں تقریب سے خطاب میں بوریل نے کہا کہ یورپ دوسری جنگ عظیم کے بعد نسلی صفائی کی سب سے بڑی کارروائی کا مشاہدہ کر رہا ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کے خاتمے کے بعد غزہ کو چھٹیوں کا تفریحی مقام بنانا ہے۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اسرائیلی اقدامات پر اثر انداز ہونے کے ذرائع ہونے کے باوجود ایسا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ یورپی یونین وہ نہیں کر رہی جو وہ کر سکتی ہے۔ بوریل نے یورپ کی نوجوان نسل کو خبردار کرتے ہوئے یورپ کے جلد سے جلد مالی اور فوجی انضمام پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک انضمام کریں یا پھر ٹرمپ جیسے آقاؤں اور پیوٹن جیسے غاصب کی تشکیل کردہ دنیا میں یورپی تہذیب کے خاتمے کا خطرہ مول لیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular