
ایتھنز: یونان کے قریب کشتی ڈوبنے سے ہلاکتیں چھ سو سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ لیبیا سے اٹلی جانیوالی تارکین وطن کی کشتی دو دن پہلے یونان کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ حادثے میں 79 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 104 کو بچالیا گیا۔ ان میں پاکستانی، مصری، شامی، فلسطینی اور افغان شہری شامل ہیں۔ اب بھی سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے لیکن ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ مزید کسی کے بچنے کا امکان نہیں ہے۔ یونانی کوسٹ گارڈ نے انسانی اسمگلرز سے تعلق پر نو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ جو بچائے گئے افراد میں شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کشتی پر سات سو سے ساڑھے سات سو تارکین سوار تھے۔ جس میں سو کے قریب بچے اور خواتین کی بھی شامل تھی۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مائیگریشن نے اسے بحیرہ روم کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیا ہے۔ یونان کی عبوری حکومت نے کشتی کے اس بڑے حادثے کے پیش نظر ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور ہر طرح کی تقریبات منسوخ کر دی ہیں۔


































