
Markus Potzel, Deputy Special Representative of the Secretary-General for Afghanistan, briefs the Security Council meeting on the situation in Afghanistan.
جنیوا : افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کے مستقل مندوب نے خواتین سمیت افغان عوام کے حقوق کی جانب سے طالبان کی بے عملی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے یہ رویہ جاری رکھا تو عالمی برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوسکتا ہے۔ مارکس پوٹزل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کہا کہ طالبان خواتین پر سختیاں بڑھا رہے ہیں، جو 50 فیصد آبادی کی جانب سے لاپرواہی برتنے کے مترادف ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ گروہ عالمی سطح پر الگ تھلگ جانا پسند کرتا ہے۔ پوٹزل نے افغانستان کے سلسلے میں ہونے والے سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کہا کہ طالبان کے سلسلے میں عالمی برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے ۔ افغانستان کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب نے کہا کہ گذشتہ چند مہینے سے افغانستان میں مثبت تبدیلیوں کی شرح بہت کم رہی ہے اور برے حالات کا اچھے حالات پر غلبہ رہا ہے۔لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کو بند کرنے پر بھی پوٹزل نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں ایسی مثال کہیں بھی نہیں ملتی ۔ مارکس پوٹزل نے کہا کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت کے متعدد ارکان بتا چکے ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیم گاہوں کو طالبان لیڈر ملا ہبت اللہ آخوند زادہ کے حکم پر بند کیا گیا ہت جس کی حمایت ان کے قریبی انتہاپسند افراد کی جانب سے جاری ہے۔


































