
گلگت : گلگت اور اسکردو سمیت مختلف علاقوں میں لاپتہ نوجوان فیصل عباس کی بازیابی کے لیے چھ دن سے جاری احتجاج تین روز کیلئے موخر کردیا گیا جبکہ کیپٹن ضمیر چوک پر مرکزی دھرنا جاری رہے گا۔
مرکزی انجمن امامیہ گلگت نے کہا ہے کہ فیصل عباس کی بازیابی کیلئے انتظامیہ سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے لہذا قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان آغا راحت حسین الحسینی سے مشاورت کے بعد احتجاج موخر کردیا گیا ہے تمام ماتمی انجمنوں اور ذاکرین کو ہدایت ہے کہ وہ احتجاجی پروگراموں میں تنظیمی نظم و ضبط قائم رکھیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مرکزی دھرنا اپنی موجودہ جگہ پر بدستور جاری رہے گا اور شرکاء پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ انجمن نے عوام سے کہا ہے کہ اس دوران افواہوں سے گریز کریں اور صرف تنظیمی ہدایات پر عمل کریں۔ بیان کے مطابق کسی بھی قسم کی غیرذمہ دارانہ سرگرمی کی تنظیم ذمہ دار نہیں ہوگی۔
رہنماؤں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حالات کو معمول پر لانے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ مقررین کا کہنا ہے کہ اگر قائد ملت نے حکم دیا تو پورے بلتستان کو جام کر دیں گے۔


































