
گلگت : وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ جی بی کو قومی اسمبلی میں 4 اور سینیٹ میں 5 سیٹوں کیلئے وفاق کو آمادہ کر لیا ہے، سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات میں بہتری لاکر جی بی کو عبوری صوبہ بنایا جا رہا ہے، گلگت میں سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پرپوری اپوزیشن متفق ہے، البتہ ہم سفارشات کو مزید بہتر بنا کر اسمبلی میں پیش کرینگے، سرتاج عزیز کمیٹی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تین تین نشستوں کی سفارش کی تھی مگر ہم نے وفاق کو سیٹوں میں اضافہ کرنے پر آمادہ کر لیا ہے، قومی اسمبلی میں چار اور سینیٹ میں پانچ سیٹوں کیلئے وفاق نے ہاں کر دی ہے، خالد خورشید نے کہا کہ قومی اسمبلی و سینیٹ میں سیٹوں میں اضافے کیلئے وزیر اعظم سے بات کی، آرمی چیف اور وزارت خارجہ سے بھی بات کی گئی، ہم نے طویل جنگ لڑی اور نشستوں میں اضافے میں کامیاب بھی ہوئے، انہوں نے کہا کہ کیا بلوچستان ہم سے زیادہ پسماندہ نہیں ہے، وہاں پر ایک کروڑ 20 لاکھ کی آبادی کیلئے قومی اسمبلی میں 16نشستیں ہیں، ہم لڑ لڑ کر قومی اسمبلی میں چار سیٹیں مختص کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں، فاٹا ہم سے بہت بڑا ہے وہاں پر ایک کروڑ کی آبادی ہے، وہ الگ صوبہ نہیں بن سکا، ہزارہ الگ صوبہ نہیں بن سکا، جنوبی پنجاب الگ صوبہ نہیں بن سکا، مسئلہ کشمیر اور متنازعہ علاقہ ہونے کی وجہ سے ہم خصوصی رعایت حاصل کر رہے ہیں اور عبوری صوبہ بن رہا ہے، عبوری صوبہ کیلئے ہم اقتدار کی قربانی دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ عبوری آئینی صوبہ کیلئے ہم اپنے ڈھائی سال دور اقتدار کی قربانی دے رہے ہیں، عبوری صوبہ بنا تو 2023ء میں گلگت بلتستان میں اسمبلی انتخابات کرانے ہونگے اور اس دور میں یہ قربانی کون دیتا ہے، خالد خورشید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بھی گلگت بلتستان تک بڑھایا جا رہا ہے،آئینی ترامیم کا بل آج ہی قومی اسمبلی میں پیش کر سکتے ہیں مگر آئینی ترامیم بار بار نہیں ہو سکتیں، اس لیے ہم تمام جماعتوں، سول سوسائٹی کے افراد اور بار کونسل سے بات چیت کر رہے ہیں، اتفاق رائے حاصل کرنے کے بعد آئینی ترامیم کے بل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔


































