
نیویارک: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے غزہ کے مظلوم عوام پر جاری بدترین اسرائیلی محاصرے کو نسل کشی کا ایک نیا حربہ قرار دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے عبوری ایگزیکٹو ڈائریکٹر فیدریکو بوریلو نےکہا کہ اسرائیل کا یہ محاصرہ اب محض ایک فوجی حکمتِ عملی نہیں رہا، بلکہ یہ فلسطینی عوام کی نسل کشی کا باقاعدہ آلہ بن چکا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ غزہ کے باقی ماندہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور لاکھوں فلسطینیوں کو ایک چھوٹے سے علاقے میں محصور کرنے کا اسرائیلی منصوبہ بین الاقوامی سطح پر جرائم، نسلی تطہیر اور نسل کشی کی سنگین شکل بن چکا ہے۔ فیڈریکو بوریلو نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مزید مظالم کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ جس میں ہتھیاروں کی فروخت، فوجی امداد اور سفارتی مدد روکنا شا مل ہے۔ اسرائیلی حکام پر پابندیاں لگائی جائیں اور دو طرفہ معاہدوں کو معطل کرنے پر غور کیا جائے۔


































