Mon Oct 12, 2026

پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

روزانہ کی خبریں

2 برس میں غزہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، 90 فیصد عمارتیں تباہ ہو گئیں

رام اللہ : اسرائیلی جارحیت کے دو برس مکمل ہونے پر غزہ پٹی ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر، 69 ہزار سے زائد شہید اور بنیادی زندگی کے تمام ذرائع تباہ ہو چکے ہیں۔
ورلڈ اسٹیٹسٹکس ڈے (World Statistics Day) کے موقع پر فلسطینی مرکزی ادارہ برائے شماریات (The Palestinian Central Bureau of Statistics) نے تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اٹھارہ اکتوبر 2025 تک غزہ میں 18 ہزار 592 بچے اور 12 ہزار 400 خواتین شہید ہوئیں۔ ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد زخمی اور 11 ہزار سے زائد لاپتہ ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیس لاکھ سے زائد فلسطینی کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ غزہ کی نوے فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اسکول، اسپتال، مساجد، گرجا گھر اور سرکاری دفاتر ملبے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پانی اور نکاسی کا 85 فیصد نظام تباہ ہے اور اب زیادہ تر گھرانوں کو روزانہ صرف چھ لیٹر فی کس پانی میسر ہے جو عالمی معیار سے تین گنا کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق چھیانوے فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ میں مبتلا ہے اور 80 فیصد مزدور طبقہ روزگار سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی معیشت کے بیشتر پیداواری شعبے تباہ ہو چکے ہیں۔
ادارہ شماریات نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال فلسطین کو معاشی، سماجی اور انسانی طور پر مکمل تباہی کے قریب لے آئی ہے، جہاں زندگی کا تسلسل ممکن نہیں رہا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular