
رام اللہ : اسرائیلی جارحیت کے دو برس مکمل ہونے پر غزہ پٹی ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر، 69 ہزار سے زائد شہید اور بنیادی زندگی کے تمام ذرائع تباہ ہو چکے ہیں۔
ورلڈ اسٹیٹسٹکس ڈے (World Statistics Day) کے موقع پر فلسطینی مرکزی ادارہ برائے شماریات (The Palestinian Central Bureau of Statistics) نے تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اٹھارہ اکتوبر 2025 تک غزہ میں 18 ہزار 592 بچے اور 12 ہزار 400 خواتین شہید ہوئیں۔ ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد زخمی اور 11 ہزار سے زائد لاپتہ ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیس لاکھ سے زائد فلسطینی کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ غزہ کی نوے فیصد عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اسکول، اسپتال، مساجد، گرجا گھر اور سرکاری دفاتر ملبے میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پانی اور نکاسی کا 85 فیصد نظام تباہ ہے اور اب زیادہ تر گھرانوں کو روزانہ صرف چھ لیٹر فی کس پانی میسر ہے جو عالمی معیار سے تین گنا کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق چھیانوے فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ میں مبتلا ہے اور 80 فیصد مزدور طبقہ روزگار سے محروم ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی معیشت کے بیشتر پیداواری شعبے تباہ ہو چکے ہیں۔
ادارہ شماریات نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال فلسطین کو معاشی، سماجی اور انسانی طور پر مکمل تباہی کے قریب لے آئی ہے، جہاں زندگی کا تسلسل ممکن نہیں رہا۔


































