
پیرس : فرانس اور اسپین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاح اور ویٹو کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے کہا کہ ویٹو کا غلط استعمال انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال رہا ہے۔ پیرس پیس فورم سے خطاب میں فرانسیسی وزیرِ خارجہ جین نوئل باروٹ نے کہا کہ سلامتی کونسل میں دو مستقل نشستیں افریقہ کو دی جانی چاہئیں جبکہ جاپان، جرمنی اور برازیل کو بھی نمائندگی ملنی چاہیے تاکہ فیصلے زیادہ جمہوری اور معتبر بن سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ فرانس میکسیکو کے ساتھ مل کر کئی برسوں سے ایک ایسی تجویز پر کام کر رہا ہے جو انسانیت سوز جرائم کے معاملات میں ویٹو کے حق کو محدود کرے۔ اس تجویز کو بیس سے زائد ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
اسپین کے وزیرِ خارجہ جوز مینوئل الباریز نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسپین ہر جگہ بین الاقوامی انسانی قانون اور شہریوں کے تحفظ کا حامی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کے قوانین سے استثنا حاصل نہیں ہوسکتا اور عدالتِ انصاف کے فیصلے تمام رکن ممالک پر لازم ہیں۔


































