
سری نگر : مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو ان کے گھر میں دوبارہ نظر بند کردیا گیا۔ یہ اطلاع انہوں نے ٹوئٹر پر کی گئی ٹوئٹس میں دی، جس کے ساتھ مقفل دروازوں اور سیکیورٹی انتظامات کی تصاویر بھی شیئر کیں۔کشمیری رہنما نے لکھا کہ ان کے علاوہ ان کے میڈیا ایڈوائزر اور ایک اور ساتھی کو بھی گھروں میں نظر بند کردیا گیا ہے۔ محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اور پھر ان کے اہلِ خانہ کو باعزت تدفین کا حق نہ دے کر بھارتی حکومت غیر انسانیت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر گئی ہے۔ شروع سے ان کا بیانیہ احتساب سے فرار کے لیے جھوٹ پر بنیاد کرتا ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے بھارتی حکام کے حوالے سے مزید کہا کہ وہ اپنے اقدامات پر جوابدہ نہیں ہونا چاہتے اس لیے جو آوازیں اس قسم کی ناانصافی اور ظلم کے خلاف بلند ہو رہی ہیں انہیں دبایا جارہا ہے۔ پیر کی رات سری نگر میں بھارتی فوج نے چھاپے کے دوران دو مبینہ حریت پسندوں سمیت 5 افراد کو شہید کردیا تھا۔


































