
بیروت: حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ مزاحمتی تحریک جنگ نہیں چاہتی ہے لیکن اس سے خوفزدہ بھی نہیں کیونکہ اسے فتح کے امکانات کے بارے میں مکمل یقین ہے، لبنان پر مسلط کردہ 33 روزہ جنگ اور اس میں صیہونی فوج کے خلاف کامیابی کی سالگرہ پر تقریب سے خطاب میں حسن نصراللہ نے کہا کہ اس جنگ کے ذریعے حاصل کی گئی ایک اہم ترین کامیابی لبنان کو میسر امن و امان ہے ، گذشتہ 15 سالوں کے دوران لبنان پر صیہونی حملوں میں ایک بھی اپنے ہدف تک نہیں پہنچا، جنگ کی ایک اور اہم کامیابی دشمن کے مقابلے میں مزاحمتی محاذ کی جانب سے برقرار کیا جانے والا نیا دفاعی توازن ہے جس کا مقصد لبنان کی حفاظت ہے، اس جنگ کے نتائج سے لاحق خوف اس بات کا سبب بنا کہ صیہونی دشمن لبنان پر جارحیت کا خیال اپنے ذہن سے نکال دے، حسن نصراللہ نے کہا کہ صیہونی دشمن 2006 سے اب تک حزب اللہ کے ہتھیاروں سے خوفزدہ رہا ہے لیکن اس کے باوجود لبنان میں موجود بعض عناصر حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کو زور دے رہے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو دشمن اہداف کو دانستہ یا نادانستہ طور پر آگے بڑھا رہے ہيں، انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیلی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، اور اس کی جانب بڑھ بھی نہیں رہے لیکن اس کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں اور جانتے ہیں کہ اس میں فتح ہماری ہی ہو گی جبکہ دشمن جو بڑی حماقت کر سکتا ہے یہ ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کر لے، سید حسن نصراللہ نے کہا گزشتہ 15 برسوں کے دوران صیہونی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا حملہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم جمعرات کو نامعلوم راکٹ داغے گئے، ہم نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور فوج پر چھوڑ دیا کہ وہ خود اس موضوع کا جائزہ لے، تاہم آدھی رات کو جنوبی علاقے پر حملہ کیا گيا اور اس کے ساتھ اسرائیلی دشمن نے ایک بیان جاری کیا کہ ایک غیر آباد علاقے کو نشانہ بنایا ہے، دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ مسئلہ یونہی ختم ہوجائے گا، لیکن جب جارحیت کی جاتی ہے تو اس کا جواب بھی دیا جانا ضروری ہوتا ہے، دشمن نے چونکہ ایک غیرآباد علاقے پر حملہ کیا تھا تو ہم نے بھی مماثل کارروائی کی تاہم ہم نے صہیونی دشمن کے برخلاف رات کی تاریکی میں حملہ کرنے کی بجائے دن کی روشنی میں جواب دیا۔


































