
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے دشمن کے طویل المدت منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ بروقت اور معقول اقدامات کے ذریعے ہی دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ممکن ہے۔ دشمن اپنے تمام بظاہر ٹھوس حساب کتاب اور فوجی طاقت کے باوجود قابل تسخیر ہے۔ مسلح افواج کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے ولی امر مسلمین نے کہاکہ حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق مسلح افواج ملک کا مضبوط حصار ہیں۔ اپنی اس حیثیت کی وجہ سے مسلح افواج کی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری مسلح افواج اپنی حیثیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے فرائض منصبی ادا کرنےمیں مصروف ہیں۔ انہوں نے مسلح افواج پرزور دیا کہ ملکی دفاع کو مستحکم کرنے کے حوالے سے کسی بھی حد پر اکتفا نہ کریں بلکہ زیادہ سے زیادہ کوشش کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ ہمیشہ آمادہ رہنا قرآن میں اللہ کا حکم ہے اور اسی کی وجہ سے دشمن ہمیشہ خوف کا شکار رہتا ہے۔ دشمن کا خطرہ ہر وقت رہتا ہے لہذا ہر لمحہ اپنی آمادگی کو یقینی بنائیں۔ مسلح افواج کی آمادگی کی وجہ سے ہی دشمن جارحیت سے باز رہتے ہیں اور سازشیں ناکام ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمزور اور دشمن کے آلہ کار بننے والے چھوٹے عناصر پر اپنی زیادہ توجہ کئے بغیر اصل اور پس منظر میں رہنے والے کرداروں پر اپنی توانائی خرچ کریں۔ عالمی استکبار کو جہاں مفادات نظر آئیں جنگ کی آگ بھڑکادیتا ہے۔ انہوں نے دشمن کےطویل المدت منصوبوں کے بارے میں مسلح افواج کو خصوصی انتباہ کیا اور کہا کہ چھوٹے اور درمیانی کم مدت منصوبوں کے ساتھ طویل المدت منصوبوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ولی امر مسلمین نے خطے میں امریکی پالیسی کے بارے میں کہا کہ گذشتہ دو عشروں سے امریکہ نے ایران کے مشرق اور مغرب میں جنگ چھیڑی ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکہ کے ذاتی مفادات تھے لیکن اصلی اور بنیادی مقصد ایران کو ہدف بنانا تھا۔ انقلاب اسلامی مضبوط بنیادوں پر استوار ہونے کی وجہ سے امریکہ کا ناپاک منصوبہ خاک میں مل گیا۔ ایران کے مضبوط دفاعی نظام کی وجہ سے آج دشمن کو عسکری میدان میں شکست ہوگئی ہے۔ انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کو درپیش بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل میں جاری کشیدگی دشمن کی شکست کی ایک اور علامت ہے۔ گذشتہ سال فلسطین پر غاصب صیہونی افواج کی جارحیت پر زیادہ ردعمل نہیں آیا تھا لیکن اس سال امریکہ اور برطانیہ میں اسرائیل کی جارحیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ولی امر مسلمین نے دشمن کی شکست پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات سے غافل نہ ہونے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ کسی بھی مرحلے پر دشمن کے مکر وفریب سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے مسلح افواج کے فکری مراکز کو ہدایت کی کہ معقول اور مناسب پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے نت نئے اور مستقل طریقہ عمل اپنایا جائے۔ رہبر معظم کے خطاب سے پہلے مسلح افواج کے مشترکہ اسٹاف کے سربراہ میجر جنرل باقری نے مسلح افواج کے اقدامات اور منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔


































