
کابل : افغانستان کے شیعہ علماء کے ایک غیر معمولی اجلاس میں رہنماؤں اور شخصیات نے طالبان سے محرم کی مجلسوں پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور کہاکہ وہ علم کی تنصیب اور ماہ محرم سے متعلق مراسم کے انعقاد کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ اجلاس میں متعدد علمائے کرام نے حسینی عزاداروں کے ساتھ طالبان کی سیکیورٹی فورسز کے پرتشدد سلوک اور کابل کے بعض علاقوں سے امام حسین علیہ السلام سے متعلق علم اور پرچم کو گرائے جانے پر گہرے افسوس کا باعث قرار دیا۔اجلاس کے اعلامیے میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ عزاداروں کی خواہشات کے مطابق، تمام شیعہ علمائے کرام امارت اسلامیہ سے کہتے ہیں کہ وہ محرم کے ماتمی مراسم کے انعقاد پر پابندیاں ہٹائیں اور کہیں بھی امام حسین کے نام پر سوگ کی علامت کے طور پر لہرائے جانے والے ماتمی پرچموں کو نصب کرنے سے نہ روکیں۔ اس اجلاس میں وہ دستخطی پٹیشنز بھی دکھائی گئیں جن پر گذشتہ دنوں کابل اور دیگر شہروں کی مختلف مساجد میں پابندیوں کے خاتمے کے لیے دستخط کیے گئے تھے۔ ان درخواستوں میں ملک بھر کے شہریوں اور ماہ محرم کے عزاداروں نے طالبان کے سیکیورٹی حکام سے کہا کہ وہ سیکیورٹی فراہم کریں اور محرم اور عاشورہ کی مجلسوں پر پابندیاں ختم کریں۔ افغان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ آیت اللہ صالحی مدرس نے کہا کہ کابل اور افغانستان کے دیگر شہروں میں محرم اور عاشورہ کے حوالے سے حالیہ پابندیوں کی وجہ سے انہوں نے اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس قرارداد کو طالبان حکام تک پہنچایا جائے تاکہ اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خواہش ہے کہ محرم کی مجلسوں پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور مذہبی پرچم اور علم کی تنصیب کو نہ روکا جائے۔


































