
گلگت : مرکزی ہیت آئمہ جمعہ والجماعت گلگت کے اجلاس میں چیف کورٹ گلگت بلتستان کے جج ملک عنایت الرحمان کی گاڑی پر حملے سمیت دیگر اہم امور پر غور کیاگیا اور چند مطالبات پیش کئے گئے۔
اجلاس میں ملک عنایت الرحمان کی گاڑی پر فائرنگ کرنیوالے بدنام زمانہ دہشت گرد فیضان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں مولوی عطا اللہ، مولوی زائد اقبال اور دیگر کیخلاف شر انگیز تقاریر ‘ایک کے بدلے دس قتل کرنے، شیعہ نشین علاقے فتح کرنے اور رہبر مسلمین کیخلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ان مولویوں کی شرانگیز تقاریر کے نتیجے میں قتل کئے گئے طالب علم انعام حسین کے قاتلوں کے خلاف بھی فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں ماضی کے واقعات، بشمول شگر، چلاس، لولوسر اور دیگر المناک واقعات اور شیعہ علماء کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔


































