
جنیوا:اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ کی صورتحال اب بھی تباہ کن ہے۔امداد کی فراہمی میں تاخیر مزید جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔
انروا کے قائم مقام ڈائریکٹر برائے اطلاعات جوناتھن فلر نے کہا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ایک خوش آئند قدم ہے لیکن یہ غزہ کے گہرے انسانی بحران کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امدادی سامان کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ متاثرہ آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ فلر کے مطابق ہر دن کی تاخیر غذائی قلت اور قابلِ تدارک بیماریوں کے باعث مزید اموات کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوری ترجیح بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنا، خوراک کی کمی پر قابو پانا اور بے گھر فلسطینیوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین نے کہا ہے کہ غزہ میں دس لاکھ سے زائد خواتین اور بچیوں کو خوراک کی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ تقریباً پونے دو لاکھ کو فوری غذائی معاونت درکار ہے۔


































