
اسلام آباد : انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے کوئٹہ اور عمر کوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں دو افراد کے ماورائے عدالت قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کاکہنا ہےکہ کوئٹہ میں ایک ہوٹل کا مالک دوران حراست لاک اپ میں جبکہ ایک ڈاکٹر عمرکوٹ میں پولیس چھاپے کے دوران مارا گیا۔ کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ توہینِ مذہب کے مقدمات میں ایسا تشدد جس میں مبینہ طور پر سرکاری اہلکار بھی ملوث ہوں تشویشناک ہے۔ کمیشن نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ حکومت عمرکوٹ میں ڈاکٹر کی موت کے ذمے داروں کا تعین کرنے کے لیے آزادانہ تحقیقات کرائے۔


































