
غزہ : اقوام متحدہ کی ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے کہا ہے کہ غزہ میں ملبہ صاف کرنے میں موجودہ رفتار کے ساتھ سات سال لگ سکتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر لوگ انتہائی خطرناک حالات میں رہ رہے ہیں۔ یو این ڈی پی کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے بتایا کہ غزہ کی انسانی صورتحال ان کے ترقیاتی کام کے تجربے میں سب سے بدترین ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے نوے فیصد لوگ اب بھی ملبے کے درمیان رہ رہے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے۔ یو این ڈی پی کی بحالی کی کوششیں تین بنیادی شعبوں پر مرکوز ہیں: سب سے پہلے ملبہ اور ٹھوس فضلہ ہٹانا، جس کا صرف 0.5 فیصد کام مکمل ہوا ہے اور موجودہ رفتار سے سات سال لگ سکتے ہیں۔ دوسرا ہنگامی رہائش کا مسئلہ ہے، جہاں زیادہ تر لوگ انتہائی بنیادی خیموں میں رہ رہے ہیں۔ یو این ڈی پی نے 500 ہنگامی رہائشی یونٹس تعمیر کیے ہیں اور 4,000 تیار ہیں، تاہم ضروریات موجودہ فراہمی سے کہیں زیادہ ہیں۔ ڈی کرو نے زور دیا کہ ملبہ ہٹانے اور ری سائیکلنگ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مزید اختیارات اور وسائل درکار ہیں۔


































