
نیویارک : اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے ہیومین رائٹس واچ نے کہاہے کہ چین میں ایغور اور ترک مسلمانوں کیخلاف جبر پر مبنی پالیسیاں اب بھی برقرار ہیں۔ سنکیانگ پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اپنی رپورٹ کی دوسری سالگرہ پر کہاہے کہ چینی حکومت سنکیانگ میں ایغوروں اور ترک مسلمانوں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے پر قائم ہے اور وہاں جبر سے انکار کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہاکہ اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو چینی حکومت پر زیادتیوں کو ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا چاہیے۔ ادارے کی ترجمان روینہ شامداسانی نے کہاہے کہ چینی حکام کے ساتھ انسانی حقوق کے ایشو کے ساتھ ساتھ ۔ انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں اور فوجداری نظام انصاف کے موضوعات پر بات چیت کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ لیکن دو سال میں اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ روینہ شامداسانی نے مطالبہ کیا کہ چین انسانی حقوق کے تحفظ میں ٹھوس پیش رفت کے ساتھ ساتھ تشدد اور مبینہ قانون کے برعکس اقدامات اور کارروائیوں کا بھی جائزہ لے۔ چینی حکام نے ہیومین رائٹس واچ کی رپورٹ کو غیر قانونی اور باطل قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔


































