
اسلام آباد: پاکستان میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کو غیرشرعی قرار دینے پر اسلامی نظریاتی کونسل کو آڑے ہاتھوں لے لیاگیا۔ پاکستان میں اسلامی قوانین کی تشریح کرنے والی اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا تھا کہ غیر اخلاقی یا غیر قانونی مواد تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال خلاف شریعت ہے۔کونسل کے ایک اور رکن نے بتایا کہ یہ بیان کونسل کا فیصلہ نہیں۔ ڈاکٹر راغب نعیمی کے ذاتی خیالات تھے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے غیر اخلاقی مواد دیکھنے کو مذہبی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ممتاز مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ اگر وی پی این حرام ہے تو پھر موبائل فون کا استعمال بھی حرام ہے۔ کیونکہ اس میں وی پی این کے بغیر ہی اتنی چیزیں ہیں دیکھنے کی ہیں۔ وی پی این کو غیرشرعی قرار دینا تنگ ذہنی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ملک پر ایک ایسی نااہل اور کرپٹ اشرافیہ’ کی حکومت ہے جو عوام کی حقیقی نمائندہ بھی نہیں ہے۔ سینیٹر راجا ناصر عباس نے مزید کہا کہ وہ اسی طرح سے قانون بناتے ہیں اور اپنی خواہش کے مطابق حکمنامے استعمال کر رہے ہیں۔ دلچسپی کی بات ہے کہ حکومت نے فتویٰ تو جاری کروادیا لیکن سوشل میڈیا ایپ ایکس پر پابندی کی وجہ سے تمام وفاقی اور صوبائی حکام، محکمے وی پی این کے ذریعے اپنے ایکس اکاؤنٹس چلا رہے ہیں۔


































