
لاہور : تحریک بیداری امت مصطفیٰ ص کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے پاراچنار میں راستوں کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونیوالے غذائی اور سلامتی کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تقریباً ڈھائی ماہ سے اس علاقے میں ہونیوالے واقعات کو بہانہ بنا کر راستوں کو بند کر رکھا ہے اور اس مسئلے پر ہونیوالے مذاکرات اور جرگوں میں حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاراچنار میں حالیہ مسائل کا آغاز زمین کے تنازعات سے ہوا، جو کُرم کے علاقے کی قبائلی، مذہبی اور فرقہ وارانہ ساخت کی وجہ سے شدت اختیار کر گئے ہیں، حکومت اور ریاست قبائل کے معاملات کو مرکزیت کی سطح پر حل کرنے، وحدت کے فروغ، زمینی تنازعات کو ضلعی کمیشن کےذریعے حل کرنے اور دہشتگرد خوارج کیخلاف فیصلہ کن آپریشن کے ذریعے ان مسائل کا حل نکال سکتی ہیں، لیکن حکومت کی مجرمانہ نیت ان مسائل کا حل نہیں چاہتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاراچنار میں ظلم و بربریت کی نوعیت ایک خاص منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کا مقصد تشیع کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے، کیونکہ تشیع کی موجودہ ترکیب سیاسی اور سماجی طور پر فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ پاراچنار میں محاصرہ عوام کو بھوک اور پیاس کا شکار کر کے انہیں ہجرت پر مجبور کرنے یا مرنے کیلئے چھوڑنے کی کوشش ہے۔ ایسے میں جب پورا خطہ دہشتگرد خوارج کے تسلط میں ہے، کرم کے عوام کو نہتا کرنا، حکومت کے مجرمانہ عزائم کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران اور دباؤ کا مقصد عوام کو اشتعال دلا کر ریاست کے دشمن قرار دینا اور ان کیخلاف کارروائی کا جواز پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے پاراچنار کے شیعہ اور سنی عوام کو خبردار کیا کہ پاراچنار کے بارے میں بہت خوفناک منصوبے بنائے گئے ہیں، جن کا مقصد اس علاقے کو فرقہ وارانہ کشیدگی کی آگ میں جھونکنا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عوام دشمن کی چال اور جال دونوں سے خبردار رہیں، جذباتی ردعمل دینے کے بجائے حکمت اور بصیرت سے کام لیں، اور اپنے حقوق، علاقے اور اتحاد کا دفاع کریں۔


































