
لندن : فلاحی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں قحط کو اسرائیل کی غیر انسانی ناکا بندی اور تشدد کا خوفناک نتیجہ قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر ایریکا گویرا روزاس نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں قحط اسرائیل کی بھوک سے مارنے کی دانستہ مہم کا براہ راست نتیجہ ہے۔ریاستیں ناکا بندی ختم کرانے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہیں۔
برطانیہ کی فلاحی تنظیم آکسفیم نے کہاہے کہ اسرائیل بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہاہے۔
ریڈ کراس نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ کے شہریوں کی خوراک، پانی اور ادویات کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔
اسلامک ریلیف نے کہا کہ غزہ میں قحط کی تصدیق پوری دنیا کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ دنیا روزانہ لوگوں کو بھوک سے مرتے اور بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے زندہ ڈھانچوں میں تبدیل ہوتے دیکھ رہی ہے۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے کہاہےکہ قحط ایک قدرتی آفت نہیں ہے – یہ اسرائیل کی وحشیانہ ناکہ بندی اور انسانی امداد میں منظم رکاوٹوں کا مطلوبہ نتیجہ ہے۔


































