
دوحہ : حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ امریکی نیٹ ورک سی این این سے گفتگو میں حماس کے اس عہدیدار نے تطعل کا ذمہ دار صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ٹہراتے ہوئے کہا کہ وہ ہر بار نئی شرائط شامل کرتے ہیں اور سب سے حالیہ شرط غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کے نئے نقشے ہیں۔
حماس کے ایک اور عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ فوج کی دوبارہ تعیناتی کے بارے میں اسرائیل کا موقف مذاکرات میں حقیقی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم 19 جنوری 2025 کے نقشوں پر مبنی جزوی انخلا کے پابند ہیں جس میں معمولی ترامیم کی گئی ہیں۔ حماس کے اعلیٰ عہدیدار نے نیتن یاہو پر مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھانے کا الزام لگاتے ہوئے واضح کیا کہ نیتن یاہو نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران جو مثبت لہجہ اپنایا تھا وہ صرف سیاسی اور میڈیا کے استعمال کے لیے تھا۔


































