
لاہور : پنجاب میں مشی جلوسوں پر مقدمات صوبائی حکومت کی پالیسی کے تحت درج کئے گئے۔ یہ اعتراف ڈی آئی جی پولیس لاہور نے شیعہ وکلاء لاہور ہائیکورٹ میں دائر پٹیشن کے جواب میں کیا۔ڈی آئی جی نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ پیدل چلنے والوں کیخلاف پرچے کاٹے گئے ہیں لیکن کسی کو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی گرفتار کیا جائے گا۔ شیعہ وکلا نے پنجاب میں درج کی گئی بے بنیاد اور غیر قانونی ایف آئی آرز کولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے جس کی سماعت پیر سے ہوگی۔لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں چہلم کے مرکزی جلوسوں میں شرکت کیلئے اپنے اپنے علاقوں سے پیدل جانے والوں کیخلاف 104 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ وکلا کی درخواست میں پنجاب حکومت ، انتظامیہ اور پولیس سے جواب طلب کیا گیا ہے کہ وہ کس بنیاد پر ایک آزاد ملک کے شہریوں پرسڑک کنارے صرف پیدل چلنے کی بنیاد پر مقدمات درج کررہے ہیں؟ وکلا کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ دنیا سیکیورٹی کا مسئلہ بنا کر پاکستان میں کھیلوں اور دوسری مثبت سرگرمیوں کو روکنا چاہتی ہے اور پولیس کے اپنے ہی ملک میں پرامن سرگرمیوں کو سیکیورٹی رسک بنا کر پیش کرنے سے بھارتی اور غیرملکی پروپیگینڈے کو تقویت ملی ہے۔


































