Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

رسول(ص) کی گستاخی برداشت نہیں کرسکتے، سوشل میڈیا پر خرافات کا سمندر ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی عزت و ناموس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف کیس پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف کتنی درخواستیں موصول ہوئیں؟ ایف آئی اے گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف کاروائی میں کیوں تاخیر کررہی ہے۔ جس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ پٹیشنرز کی جانب سے کل 17 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 2 درخواستوں پر ایف آئی اے نے کارروائی کی اور باقی درخواستوں پر انکوائری ختم کردی کیونکہ ان درخواستوں میں دیئے گئے سوشل میڈیا لنکس بلاک ہو گئے تھے۔لنکس بلاک ہوجائیں تو ہم مجرمان کی شناخت نہیں کر سکتے۔ جس پر عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے کے ایک افسر نے عدالت کو بتایا تھا کہ لنکس بلاک ہونے کے باوجود بھی مجرمان کی شناخت ہوسکتی ہے۔ ایف آئی اے کی نیت ہو تو سب کچھ ہوسکتا ہے،اصل مسئلہ نیت کا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ درخواستوں کا اوریجنل ریکارڈ کہاں ہے، جو ریکارڈ آپ نے پیش کیا ہے، وہ اوریجنل نہیں ہے، آپ کو پٹیشنرز کو نہیں عدالت کو مطمئن کرنا ہے،تمام درخواستوں کا اوریجنل ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر اس کیس کے پٹیشنرز کو ہراساں کیا جارہا ہے، پٹیشنر شیراز احمد فاروقی کے گھر پولیس نے چھاپے مارے، حافظ احتشام احمد کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ ہم آرڈر میں لکھوا دیتے ہیں کہ پٹیشنرز کو کوئی ہراساں نہ کرے۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ حضور ﷺ کی عزت و ناموس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، جہاں پر مغربی ممالک کا اپنے ملک کا یا اپنے مذہب کا سوال ہو، وہاں مغرب ممالک بھی سخت کاروائی کرتے ہیں، وہ اپنے ملک کے مفاد یا اپنے مذہب کے خلاف کچھ نہیں برداشت کرتے تو ہم حضور ﷺ کی گستاخی کیسے برداشت کر سکتے ہیں، ہمارے ملک میں سوشل میڈیا پر خرافات کا سمندر ہے،سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد کے خاتمے کے لئے قوانین کا سختی سے نفاذ کیا جائے۔

مزید پڑھیے

Most Popular