
پشاور: خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جمیعت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن میں دھماکے سے 40 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ باجوڑ کے صدر مقام خار میں جمیعت علما اسلام کا ورکرز کنونشن جاری تھا کہ خوفناک دھماکے سے افراتفری مچ گئی۔ دھماکا اتنا زوردار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ادارے جائے وقوع پر پہنچے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنا شروع کردیا۔ دھماکے سے 20 افراد تو موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ دیگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں چل بسے۔ پچاس سے زائد زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ شدید زخمیوں کو پشاور منتقل کردیا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھماکے پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بم دھماکے کی فوری اور مکمل تحقیقات کروا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ منصوبے کے تحت حالات خراب کیے جارہے ہیں، ہماری جماعت ایک پرامن جماعت ہے، ہم نے ہمیشہ پُرامن سیاسی جہدوجہد کا راستہ اپنایا۔


































