
تہران: شام میں شہید ہونے والے ایران کے کمانڈر جنرل سید رضی موسوی کی آخری رسومات تہران میں ادا کی گئیں۔ جس میں اعلیٰ سول و فوجی حکام اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس سے قبل کل رات مشہدالمقدس میں حرم امام علی رضا علیہ السلام میں شہید کی میت کو طواف کرایا گيا۔
تہران میں جلوس جنازہ میں شریک عوام نے اپنے ہاتھوں میں شہید جنرل قاسم سلیمانی، شہید جنرل رضی موسوی اور مدافعین حرم کے دیگر شہدا کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ اللہ اکبر، لبیک یاحسین، اسرائیل مردہ باد، صیہونی ازم مردہ باد اور ہمارا نعرہ ہے یاحسین یا حسین اور شہادت ہمارے لئے باعث فخر ہے، جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع نامہ نگاروں اور صحافیوں کی کافی بڑی تعداد بھی دیکھی گئی۔
شہید رضی موسوی کی نماز جنازہ ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پڑھائی اور شہید موسوی کے اہل خانہ سے گفتگو میں اس شہادت کو ان کی طویل خدمات و زحمات کا بہترین صلہ قرار دیا۔
شہید جنرل موسوی کی میت ایران منتقل کئے جانے سے قبل شام میں حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کے حرم مطہر اور عراق نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کے حرم اقدس اور کربلائے معلی میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور بہتر شہدا کے حرم مطہر میں تشییع جنازہ کی گئی۔
واضح رہے کہ جنرل سید رضی موسوی کو غاصب اسرائیلی فوج نے دمشق کے زینبیہ علاقے میں دہشت گردانہ حملے میں شہید کردیا تھا۔


































