
برطانیہ اور یورپ کے متعدد شہر منگل 15 اگست کو بھارت کے خلاف اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے حق میں زبردست نعروں سے گونج اٹھے، بیرون ملک مقیم کشمیریوں اور ان کے ہمدردوں نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ ذرائع کے مطابق مظاہرین نے عالمی برادری کی توجہ کشمیریوں اور سکھوں پر بھارتی ظلم و جبر کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت کو یوم آزادی منانے کا کوئی حق نہیں کیونکہ کشمیری بھارت کے ناجائز قبضے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مظاہرین لندن میں بھارتی ہائی کمیشن، برمنگھم میں بھارتی قونصل خانے اور کوپن ہیگن میں بھارتی سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے اور یہ تجدید عہد کیا کہ جب تک مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھارت کے ناجائز قبضے سے آزادی نہیں مل جاتی اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہر قوم کو آزاد ہونا چاہیے اور شہری آزادیوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے، تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت کشمیریوں کو ان حقوق سے محروم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آزاد اور جمہوری ہونے کا دعوی کر کے بین الاقوامی برادری کو بے وقوف نہیں بنا سکتا۔ فہیم کیانی نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حق میں اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں اور بھارت عالمی برادری کو کشمیریوں کے ساتھ کیے گئے اس بین الاقوامی وعدے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو چیلنج کرنے کی خاطر بین الاقوامی طاقتوں کو قائل کرنے کے لیے ایک مضبوط مہم کی ضرورت ہے۔ بھارت مغربی حمایت حاصل نہیں کر سکتا جب کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ کے نظام کو کھلا چیلنج کیا ہے لیکن کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری نہیں کر رہا ہے۔


































