
دوحہ: امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات میں کوئی قابل ذکر پیشرفت نہ ہوسکی۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکا اور طالبان حکام نے پہلی بار براہ راست مذاکرات کئے۔ فریقین نے ملاقاتیں، افہام و تفہیم اور بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کے مطابق طالبان رہنماؤں سے سفری اور دیگر پابندیاں اٹھانے اور بیرون ملک افغان مرکزی بینک کے اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ وفود نے منشیات کی روک تھام اور انسانی حقوق کے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ امریکی حکام نے طالبان حکام کو بتایا ہے کہ واشنگٹن اقتصادی استحکام اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے تکنیکی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ امریکی حکام نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کے خاتمے کے لیے اپنی پالیسیاں واپس لیں۔ امریکی وفد نے انسانی ہمدردی کے تحت امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کی ضرورت پر زور دیا۔


































