Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

امریکا کی پاکستان کے معدنی ذخائر پر نظریں ہیں، علامہ سید جواد نقوی

لاہور: علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ امریکہ نے یوکرین کو جنگ میں الجھا کر اس کی زمین میں چھپی قیمتی معدنیات پر قبضے کی راہ ہموار کی۔ ویسے ہی اب امریکہ دیگر کمزور ممالک کی طرف بھی دیکھ رہا ہے۔ لاہور میں تقریب سے خطاب میں علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ٹرمپ کھل کر کہہ چکا ہے کہ دنیا کی سب سے قیمتی دھاتیں، یورینیم، اور معدنی ذخائر یوکرین میں ہیں۔
اب وہاں جنگ کے سائے میں، ان خزانوں پر قبضے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان جیسے ممالک کی زمینیں، پہاڑ اور زمین دوز خزانے اب امریکہ کی آنکھوں کا نشانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ جانتا ہے کہ ان ممالک کی معیشتیں کمزور ہیں، قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہیں، پابندیوں کی سکت نہیں رکھتیں۔ چنانچہ وہ پہلے تجارتی جنگ چھیڑتا ہے، ٹیرف لگاتا ہے، پھر دباؤ ڈال کر کہتا ہے اپنے معدنی ذخائر ہمارے حوالے کرو، ہم پابندیاں ہٹا دیں گے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران اس سودے کیلئے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم، جو دن رات اپنی محنت اور کوششوں کے گُن گاتے ہیں، میڈیا جن کی تعریف میں رطب اللسان ہے، وہ بھی اب کھل کر کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے معدنی ذخائر کے ذریعے ملک کو قرضوں سے نکالیں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب امریکی وفد پاکستان میں موجود ہے، مذاکرات ہو رہے ہیں، اور دباؤ کی فضا قائم ہے۔ یہ بیان بظاہر امید دلاتا ہے، مگر درحقیقت یہ قوم کی جڑوں کو مزید بیچنے کے مترادف ہے۔
پاکستان پہلے ہی چین کو اپنے معدنی ذخائر دے چکا ہے اور اب امریکہ بھی اسی فہرست میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے، تو یہی خزانوں والے پہاڑ، جن سے ہماری آنیوالی نسلیں فائدہ اٹھا سکتی تھیں، عالمی طاقتوں کی ملکیت بن جائیں گے۔

مزید پڑھیے

Most Popular