
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کو اپنی 75 سالہ عمر میں کبھی آج جیسی ہولناک مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ صیہونی ریاست اگلے 25 سال نہیں دیکھ سکے گی لیکن لگتا ہے کہ ان کو تو مٹ جانے کی کچھ زیادہ ہی جلدی ہے۔ اعلیٰ حکام اور عہدیداروں سے خطاب میں آپ غ کہا کہ صیہونی حکومت میں سیاسی زلزلہ آيا ہوا ہے اور پچھلے چار سالوں میں چار وزیر اعظم بدلے گئے، وہاں جماعتی اتحاد تشکیل پاتے ہی بکھر جاتا ہے، پوری جعلی صیہونی حکومت میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے جس کی ایک علامت بعض شہروں میں لاکھوں لوگوں کی شرکت سے ہونے والے مظاہرے ہیں اور صیہونی اگر چند ایک میزائل فائر کر کے ان کمزوریوں کی تلافی کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہے۔ اب تو صیہونی حکام خود حکومت کا شیرازہ بکھرنے کے مسلسل انتباہ کررہے ہیں۔ ولی امر مسلمین نے دنیا میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کو بہت تیز رفتار اور اُنہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمن محاذ کو کمزور کرنے والا قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے ملک کی خارجہ پالیسی میں مزید تحرک اور جدت عمل لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ
امریکا نے ایران کے خلاف متحدہ عرب محاذ تشکیل دینے کا اعلان کیا لیکن اس کے برعکس عرب ملکوں کے ساتھ ایران کے روابط بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح امریکا سیاسی دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے ایٹمی مسئلے کو اپنے پروگرام کے مطابق ختم کرنا چاہتا تھا لیکن وہ یہ بھی نہیں کر سکا۔ انہوں نے یوکرین جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ جنگ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان خلیج کا سبب بنی ہے کیونکہ جنگ میں مار امریکا کے یورپی اتحادیوں کو کھانی پڑ رہی ہے اور اُس کا فائدہ امریکا اٹھا رہا ہے۔


































