Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

امریکا اور اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے، ایران

Iranian Foreign Minister Hossein Amirabdollahian speaks during a news conference in Tehran, Iran November 23, 2022. Majid Asgaripour/WANA (West Asia News Agency) via REUTERS ATTENTION EDITORS – THIS PICTURE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ امریکا غزہ کے خلاف جنگ میں اسرائیل کا ساتھ دے کر خود بھی مجرم ہے اس لئے اس پر بھی اسرائیل کے فوجی ، سیکیورٹی اور سیاسی حکام کے ساتھ، ان جرائم میں شریک ہونے کے سبب مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ ستر دنوں میں امریکیوں اور مغربی ملکوں کی جانب سے ایران کو مسلسل یہ پیغام موصول ہو رہا ہے کہ وہ جنگ کو پھیلنے سے روکے. انہوں نے ان پیغامات پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج وائٹ ہاؤس کے اندر اس بات پر سیاسی جنگ جاری ہے کہ کیوں امریکہ نے خود کو اسرائیل سے اتنا وابستہ کرلیا ہے کہ اب وہ غزہ کی جنگ سے آبرومندانہ نکلنے کی فکر ميں ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ صیہونی حکومت کے حامی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جنگ کا جاری رہنا، راہ حل نہیں ہے اور اس صورتحال نے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ہمارا کوئی پراکسی گروپ نہیں ہے، اور یہ پراکسی گروپس کہ جن کے بارے میں امریکہ کہتا ہے، وہ گروپ ہیں جو خود اپنے مفادات اور قومی سلامتی کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular