Mon Oct 12, 2026

پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

روزانہ کی خبریں

علامہ مفتی جعفر حسین نے عوام کے حقوق کیلئے بےمثال جدوجہد کی، علامہ ساجد نقوی

راولپنڈی: شیعہ علما کونسل کے سرربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ قائد مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین لکھنو اور نجف سے فارغ التحصیل جید عالم دین، ادیب، مولف اور برجستہ خطیب کے طور پر پہچانے جانے والے، نڈر، بیباک، راست گو اور سادہ انسان تھے۔ وہ دستور کے تحت قائم ہونیوالے اسلامی قوانین کے پہلے ادارے تعلیمات اسلامیہ بورڈ کے رکن تھے، 31 علماء میں شامل تھے جنہوں نے 22 نکات تدوین کئے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی تھے، لیکن اسلامائزیشن پر اختلاف کی وجہ سے مستعفی ہوگئے تھے۔ انہوں نے عوام کے حقوق کیلئے جو جدوجہد کی وہ اپنی مثال آپ تھی۔ انہوں نے شدت پسندی اور شرپسندی کی نفی کرتے ہوئے اعتدال اور اتحاد کو مدنظر رکھا، ملک کو درپیش داخلی و خارجی مسائل پر آواز بلند کی اور عوام کے جذبات کی ترجمانی اپنے اصولی موقف کے ذریعے کی، آپ ملک میں سیاسی عدم استحکام پر حقیقی جمہوریت کی عدم دستیابی پر ہروقت پریشان رہتےتھے، کیونکہ سیاسی عدم استحکام کو ملک کی بقاء کیلئےنقصان دہ سمجھتے تھے۔ علامہ مفتی جعفر حسین نے آخری ایام میں حکمرانوں سے مایوس ہوکر ایم آر ڈی میں شمولیت اختیار کی جس میں نمائندگی ہمیں حاصل رہی اور اس میں ہم نے کردار ادا کیا۔ وہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنے پر زور دیتے رہے اور اس بات پر متفکر تھے کہ اگر آئین و قانون کو بالادستی حاصل نہ ہو سکی تو ملک شرپسندوں اور فرقہ پرستوں کے ہاتھوں تباہی کی طرف چلا جائے گا۔ ان کی دور اندیشی اور وسیع سوچ آج بھی مشعل راہ ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ دور آمریت میں پیرانہ سالی کے باوجود اپنے جائز اور دستوری حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھنا علامہ مرحوم کا خاصا تھا، جنہوں نے تمام طبقات کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد کی اور سب پر واضح کیا کہ جبر و ظلم کے ذریعہ کسی کے جائز حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالا جا سکتا چنانچہ ان کی سربراہی میں حقوق کے تحفظ کے تاریخی احتجاج پر اس وقت کے حکمرانوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ہر شہری کے حقوق کا پورا پورا احترام کیا جائے گا اور کسی کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جائے گی۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular