
تل ابیب : ماہ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کیلئے بند رکھنے کے معاملے پر اسرائیلی کابینہ میں شدید اختلافات سامنے آگئے۔اسرائیل میں سیکیورٹی اجلاس میں مسجد اقصیٰ سے متعلق اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر سال کی طرح اس بھی رمضان کے آخری عشرے کے دوران یہودیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس معاملے پر حکومتی عہدیداران کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیر داخلہ بین گویر نے فیصلے کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ مسجد اقصیٰ یہودیوں کیلئے سال کے کسی بھی وقت میں بند نہیں ہونی چاہیے۔ بین گویر نے دلیل دی کہ پچھلی حکومت نے ٹیمپل ماؤنٹ کو کم دنوں کے لیے بند کیا تھا۔ یاد رہے کہ دہائیوں طویل معاہدے کے مطابق غیر مسلموں کو مسجد اقصیٰ میں صرف چند مخصوص گھنٹوں کے دوران جانے کی اجازت ہے لیکن وہ وہاں عبادت نہیں کرسکتے۔


































