
جنیوا : اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں ہر دس میں سے نو خاندان بھوک یا قرض میں مبتلا ہیں کیونکہ لاکھوں واپس آنے والے افراد ملکی معیشت کے محدود وسائل پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دو ہزار تئیس سے افغانستان میں پینتالیس لاکھ لوگ واپس آئے ہیں، جن میں سے پندرہ لاکھ رواں سال پاکستان اور ایران سے جبری بیدخل کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر خاندان خوراک کے لیے طبی علاج ترک کر رہے ہیں اور نوے فیصد سے زائد قرضے میں جکڑے ہوئے ہیں، جو ماہانہ اوسط آمدنی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق واپس آنے والے مناسب رہائش تلاش کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کرایے تین گنا بڑھ چکے ہیں اور کئی لوگ ٹینٹ یا خراب عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے فوری امداد کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ آمدنی کے مواقع، بنیادی سہولیات، رہائش اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے واپس آنے والے علاقوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔


































