
مقبوضہ بیت المقدس: صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کی گرفتاریوں اور جبری بیدخلی کی ایک نئی لہر کے ذریعے مقبوضہ القدس کو یہودی بنانے کے منصوبے کو تیز کر دیا ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ فلسطین سینٹر فار پریزنرز اسٹڈیز کے مطابق حکومت نے رواں سال کے آغاز سے القدس میں مقیم فلسطینیوں کے خلاف 877 بے دخلی کے احکامات جاری کیے۔ زیادہ تر فلسطینی جنہیں گھر چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا، القدس کے قدم شہر میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں مقیم تھے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال القدس میں اب تک 465 نابالغ اور 58 خواتین سمیت 2,000 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ تعداد مقبوضہ علاقوں میں مجموعی گرفتاریوں کا سینتالیس فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق القدس میں اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کا مقصد فلسطینیوں کو تھکا دینا اور فوجی دہشت گردی اور دراندازی کے سامنے شہریوں کو دفاع کرنے سے روکنا ہے۔


































