
واشنگٹن : اسرائیل نسل پرست ریاست نہیں ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے صیہونی حکومت سے دوستی کے اعادہ کیلئے بھاری اکثریت سے اس کے حق میں قرارداد منظور کرلی۔ صیہونی صدر اسحاق ہرزوگ کی وائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے چند گھنٹے بعد ایوان میں قرارداد پیش کی گئی۔ قرارداد کے حق میں 412 جبکہ مخالفت میں صرف 9 ووٹ پڑے۔ یہ قرارداد پروگریسیو خاتون رکن پرمیلا جے پال کے بیان کے ردعمل میں پیش کی گئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل نسل پرست ریاست ہے۔ بعد میں انہوں نے معذرت کرلی تاہم واضح کیا کہ اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت نسل پرستانہ پالیسیوں میں مصروف ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکا ہمیشہ اسرائیل کا ایک مضبوط ساتھی اور حامی رہے گا۔ اس سے پہلے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جو بائیڈن سے ملاقات ہوئی جس میں امریکی صدر نے اسرائیل کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔


































