
بغداد : عراقی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں داعش کے 99 فیصد عناصر کا صفایا کردیا گیا ہے۔ عراقی کمانڈر انچیف کے ترجمان میجر جنرل یحییٰ رسول نے بتایا کہ فوج داعش سے آزاد کرائے گئے صوبوں میں شہری مراکز وزارت داخلہ کے حوالے کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ آزاد کرائے گئے علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہے۔ داعش کی 99 فیصد قوت کو ختم کرنے کے بعد کے مراحل شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواج کا مشن شہروں کو چھوڑنا ہے اور شہروں کے باہر تعینات ہونا اور سرحدوں کو محفوظ بنانا اور کسی بھی حفاظتی خلا کو پُر کرنا ہے۔ ایسا حفاظتی خلا دیہی اور دور دراز کے علاقوں یا صحرائے الانبار میں ہو سکتا ہے۔یحییٰ رسول نے عراق میں عمومی طور پر سیکیورٹی کی صورت حال کو بہت بہتر قرار دیا اور کہا کہ عراق کے تمام علاقوں میں استحکام، کنٹرول اور سلامتی کے حالات ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلح افواج نے کسی بھی سیکیورٹی خطرے سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عراق میں داعش کی 99 فیصد صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ تنظیم کے پاس بڑی کارروائیاں کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔داعش کے سیلز اب کسی بھی مقام یا علاقے پر قابو نہیں کر سکتے۔ داعش کے باقی بچ جانے والے سیلز آزادانہ نقل و حرکت سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔ یہ چند عناصر صحرا کی گہرائیوں، وادیوں یا پہاڑی سلسلوں میں چھپے ہوئے ہیں۔


































