
نیو یارک : اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی کو فعال کرنے کے اجتماعی جرم میں ساٹھ سے زائد ممالک ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کی یہ رپورٹ پیر کو جاری کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ اسرائیل کی نسل کشی دراصل نوآبادیاتی سوچ اور فلسطینیوں کی انسانیت سے انکار پر مبنی بیانیہ کا تسلسل ہے۔
رواں سال اپنی دوسری رپورٹ میں البانیز نے نسل کشی کو اجتماعی جرم قرار دیا۔ جو بااثر تیسری ریاستوں کی ملی بھگت سے برقرار ہے جس نے اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو ممکن بنایا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر مغربی ممالک نے اسرائیل کو سفارتی تحفظ، اسلحہ، انٹیلی جنس اور مالی تعاون فراہم کیا۔ جس کے بغیر غزہ پر حملے ممکن نہ تھے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ عرب اور مسلم ریاستیں فلسطینی کاز کی حمایت کرتی ہیں، لیکن وہ فیصلہ کن اقدام کرنے میں ناکام رہیں۔ بعض علاقائی ممالک نے بحیرہ احمر کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے زمینی راستے فراہم کیے۔
رپورٹ کے مطابق مصر نے توانائی کے تعاون اور رفح کراسنگ کو بند کرنے سمیت اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھا۔


































