Mon Oct 12, 2026

پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

روزانہ کی خبریں

فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم میں 60 ممالک ملوث ہیں، اقوام متحدہ

نیو یارک : اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی کو فعال کرنے کے اجتماعی جرم میں ساٹھ سے زائد ممالک ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کی یہ رپورٹ پیر کو جاری کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ اسرائیل کی نسل کشی دراصل نوآبادیاتی سوچ اور فلسطینیوں کی انسانیت سے انکار پر مبنی بیانیہ کا تسلسل ہے۔
رواں سال اپنی دوسری رپورٹ میں البانیز نے نسل کشی کو اجتماعی جرم قرار دیا۔ جو بااثر تیسری ریاستوں کی ملی بھگت سے برقرار ہے جس نے اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو ممکن بنایا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر مغربی ممالک نے اسرائیل کو سفارتی تحفظ، اسلحہ، انٹیلی جنس اور مالی تعاون فراہم کیا۔ جس کے بغیر غزہ پر حملے ممکن نہ تھے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ عرب اور مسلم ریاستیں فلسطینی کاز کی حمایت کرتی ہیں، لیکن وہ فیصلہ کن اقدام کرنے میں ناکام رہیں۔ بعض علاقائی ممالک نے بحیرہ احمر کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے زمینی راستے فراہم کیے۔
رپورٹ کے مطابق مصر نے توانائی کے تعاون اور رفح کراسنگ کو بند کرنے سمیت اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular