
واشنگٹن : امریکہ میں مسلم مخالف جذبات سے متعلق شکایات نائن الیون دہشت گردانہ حملوں کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئی ہیں۔ دی کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن کے کو آرڈینیٹر عمار انصاری نے بتایا کہ پہلی بار کیسوں کی مجموعی تعداد میں 23 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ بظاہر تو یہ صورتحال حوصلہ افزا ہے لیکن ہمیں یہ ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم 1995 سے لے کر آج تک موصول ہونیوالی شکایات کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو نائن الیون حملوں کے بعد کے سالوں سے یہ تعداد تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آئی کی نفرت انگیز جرائم کی رپورٹوں کے مطابق امریکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم نائن الیون کے فوری بعد بڑھے اور اب بھی اس میں اضافے کا ہی رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں اسلامو فوبیا کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔ جس کی مثال نائن الیون کے فوری بعد پیٹریاٹ ایکٹ اور اوباما دور کا سی وی ای پروگرام ہیں۔ جس میں خصوصی طور پر مسلمانوں کو غلط اسلامو فوبک تصورات کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا میں اسلام فوبیا کو سیاست دان اور مسلم مخالف کارکن، تھنک ٹینکس اور میڈیا ہمیشہ ایک ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔


































