
لندن: بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’’سیو دی چلڈرن‘‘ نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں ہر 15 منٹ میں 1 بچہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے جب کہ معصوم بچے ناکہ بندی کے باعث پانی اور خوراک کی قلت کو بھی جَھیل رہے ہیں۔ معصوم بچے اس جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں۔ سیو دی چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں اور ناکہ بندی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان بھوک سے بلکتے معصوم بچوں کا ہو رہا ہے جن کا کسی تنازعہ میں کوئی لینا دینا نہیں۔ بچوں کی بہبود کی تنظیم نے رپورٹ میں بتایا کہ غزہ پر 11 دنوں کے فضائی حملوں میں ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار سے زائد بچے زندگی کی بازی ہار گئے جب کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ سیو دی چلڈرن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں ایک تہائی سے زائد بچے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ راکٹس اور میزائلوں کی بوچھاڑ کو سہنے والے خوف زدہ بچے بھوک اور پیاس سے نڈھال ہیں۔ ان تک امداد نہیں پہنچ پارہی ہے اور پانی و خوراک کی شدید قلت ہے۔


































