
سی آئی اے کے دباوَ پر سابق صدر علی عبداللہ صالح نے بحری جہاز یوایس ایس کول پرحملہ کے ملزم کو رہا کیا،اور اسی بہانے امریکا کو یمن پر تسلط کا موقع ملا
صالح نے امریکی دھمکیوں اور لالچ میں دفاعی سازومان خصوصا میزائل اور راکٹوں کو ناکارہ بنادیا یعنی وہی کام کیا جو لیبیا کے صدر کرنل معمرقذافی کرچکے تھے
صنعا (نیوز ڈیسک)یمن نے پہلی بار سابق حکومت کے امریکا کی بدنام زمانہ جاسوس تنظیم سی آئی اے اور القاعدہ کے ساتھ خفیہ تعلقات سے پردہ اٹھادیا ، مسلح افواج کے نظریاتی شعبے نے امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی اور علی عبداللہ صالح کے ساتھ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کے رابطوں سے متعلق اسناد جاری کی ہیں ،جبکہ علی عبداللہ صالح اور سی آئی اے کے اس وقت کے سربراہ جارج ٹینٹ کی ٹیلیفونک گفتگو کا ٹرانسکرپٹ بھی مل گیا ہے، ٹیلی فونک مذاکرات میں سی آئی اے اور القاعدہ کے درمیان رابطوں اور حکومتی عہدیداروں کے ساتھ تعاون سے متعلق بات ہورہی ہے، سی آئی اے کے سربراہ اصرار کر رہے ہیں کہ بحری جہاز یو ایس ایس کول کے دھماکے میں ملوث القاعدہ کے زیرحراست رکن کو فوری طور پر رہا کردیا جائے، یمنی خفیہ ادارے کے سینئر عہدیدار عبدالقادر الشامی نے انکشاف کیا ہے کہ سی آئی اے سربراہ نے جس شخص کی رہائی پر زور دیا تھا وہ انور العولقی نام کا فرد تھا جس کے پاس بیک وقت یمن اور امریکہ کی سیٹیزن شپ موجود تھی ،جسے امریکیوں نے 2011 میں اپنا کام نکل جانے کے بعد ہلاک کردیا تھا ، یمن کے اخبار الثورہ کی رپورٹ کے مطابق عدن کے ساحل پر امریکی تباہ کن بحری جہاز یوایس ایس کول پر ہونے والے دھماکے کے بعد یمن پر امریکہ کو تسلط جمانے کا موقع ملا اور یمن سیاسی و فوجی لحاظ سے امریکہ کے کنٹرول میں چلا گیا،علی عبداللہ صالح نے امریکی دھمکیوں اور لالچ میں آکر یمن کے تمام تر دفاعی سازومان اور خصوصا میزائل اور راکٹوں کو ناکارہ بنادیا یعنی وہی کام کیا جو لیبیا کے صدر کرنل معمرقذافی کرچکے تھے


































