
وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے امریکہ کی ملٹی نیشنل کمپنی اور سوشل میڈیا کی سب سے مشہور ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کو خط لکھ کر اسلام مخالف مواد پر پابندی عائد کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے مطالبہ کیا کہ گستاخانہ مواد پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح فیس بک پر ہولوکاسٹ کی مخالفت اور اس پر تنقید پر پابندی عائد ہے، اسی طرح اسلام مخالف مواد پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔
علاوہ ازیں پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار کو جرم قرار دینے اور گستاخانہ خاکوں کی اجازت دینے جیسے مکروہ عمل کو منافقانہ قوانین قرار دیتے ہوئے ان کی تبدیلی پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے صدر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جب اظہار رائے کی آزادی کے لبادے میں ایسی مذموم کارروائیوں کی اجازت دی جائے تو انتہا پسند فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار جرم ہے اور پھر بھی توہین آمیز کارٹونوں کی عوامی نمائش کی اجازت دینے پر اصرار کیا جاتا ہے تو ایسے منافقانہ قوانین کو تبدیل کرنا ہوگا۔ صدر پاکستان نے کہا کہ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کی عمدہ ترجمانی ہے، ہم ان خیالات میں متحد ہیں، حضرت محمد(ص) کے بارے میں ہمارے جذبات کا احترام کرنا چاہئے، آج دنیا کو اشد ضرورت ہے کہ لوگوں کو متحد کیا جائے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے فرانس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پالیسی میں تنہائی اور انتہا پسندی کے جال میں پھنسنے کے بجائے اپنی پوری آبادی کو متحد کرنے کے لئے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرے اور کسی بھی مذہب کے پرامن پیروکار وں کو تنہا کرنے کے بجائے انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر کی حوصلہ شکنی کیلئے نپے تلے بیانات دے۔


































