
واشنگٹن: قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر جو بائیڈن ملک کی قیادت کو نظر انداز کرتے رہے تو پاکستان کے پاس اور بھی آپشنز ہیں،امریکی اخبار فنانشل ٹائمز سے انٹرویو میں معید یوسف نے کہا کہ امریکا کے صدر نے اتنے اہم ملک کے وزیر اعظم سے بات نہیں کی جس کے بارے میں خود امریکا کہتا ہے کہ افغانستان سے متعلق کچھ معاملات اور کچھ طریقوں میں بناؤ اور توڑو، ہم اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹھیک ہے؟، ہمیں ہر بار بتایا گیا ہے کہ فون کال ہوگی، یہ تکنیکی وجوہات ہیں یا کچھ بھی، لیکن واضح طور پر لوگ اس پر یقین نہیں کرتے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر فون کال ایک رعایت ہے، اگر سیکیورٹی تعلقات ایک رعایت ہے تو پاکستان کے پاس دیگر آپشنز بھی ہیں۔


































