Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

کورونا وائرس سے خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، رپورٹ

عالمی وبا کورونا وائرس سے خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ امریکہ کی بال اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق مرد اور خواتین کے اجسام میں موجود مدافعتی نظام کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مرد اور خواتین میں موجود قدرتی مدافعتی نظام میں بہت زیادہ اور واضح فرق موجود ہے۔ طبی ماہرین نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کا مدافعتی نظام زیادہ قوی اور توانا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مہلک وبا کورونا سے نہ صرف کم متاثر ہو رہی ہیں بلکہ اس مرض کی وجہ سے ان میں شرح اموات بھی بہت کم ہے۔ مؤقر جریدے نیچر میگزین میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مردوں میں اس وقت تک کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کا تناسب 60 فیصد ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ خواتین میں موجود خلیے بیماریوں کا مقابلہ زیادہ بہتر انداز میں کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے مہلک وبا زیادہ تر مردوں کو متاثر کررہی ہے۔
نیچر میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا جب مردوں کے جسم پرحملہ آور ہوتا ہے تو جسم میں موجود سائٹوکائن پروٹین کم کردیتا ہے جبکہ خواتین کے جسم میں یہ پروٹین جلدی کم نہیں کرسکتا ہے کیونکہ ان کا مدافعتی نظام زیادہ قوی ہوتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی نئی اقسام سائٹوکائن پروٹین کی مقدار کو بہت زیادہ کم یا حد سے زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مدافعتی نظام کمزور ہونے کی وجہ سے سائٹوکائن پروٹین کی مقدار تبدیل ہوتی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہرین نے غور کیا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں ٹی لیمفوسائٹس کا کمزور ردعمل اس بیماری کو بڑھانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد جس قدر زیادہ عمر دراز ہوں گے ان کے جسم کا ردعمل اسی قدر کمزور ہو گا جو بیماری کو بڑھاوا دینے کا سبب بنے گا۔ نیچر میگزین نے لکھا ہے کہ اس سلسلے میں پروفیسر ایواذاکی کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کورونا سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ مردوں میں ٹی لیمفاسیٹوں کی مقدار کو بہتر کیا جائے جب کہ خواتین میں سائٹوکائن کے ردعمل کو روکا جائے تاکہ انسانی نقصان کم ہو سکے۔

مزید پڑھیے

Most Popular