| رپورٹ: سید عدیل زیدی پرانی کہاوت مشہور ہے کہ ”دوست تو بدلے جاسکتے ہیں لیکن ہمسائے نہیں۔“ پاکستان کو جہاں خدا نے کئی نعمتوں سے مالا مال کیا، وہیں اس کی جغرافیائی حیثیت بھی خطہ میں ایک مخصوص انفرادیت رکھتی ہے۔ اگرچہ ہندوستان کیساتھ تقسیم ہند کے بعد سے پاکستان کے تعلقات مسلسل محاذ آرائی اور مشکلات کا شکار رہے اور اسی طرح افغانستان میں بیرونی یلغار اور جنگوں کیوجہ سے دوطرفہ تعلقات کو وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا، جو کہ ایک مسلم اور پڑوسی ملک کیوجہ سے ہونا چاہیئے تھا۔ تاہم چین وہ پڑوسی ملک ہے کہ جس کے ساتھ دوستی کی مثالیں دی جاتی ہیں، اسی طرح پاکستان کا ایک اور پڑوسی ملک ایران ہے۔ گو کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ ہی خوشگوار اور برادرانہ رہے ہیں، تاہم ماضی میں پاکستان میں بدلتی حکومتوں کی پالیسیوں اور خاص طور پر امریکہ و بعض عرب ممالک کیوجہ سے اسلام آباد اور تہران ایک دوسرے کے اس طرح قریب نہیں آسکے، جیسے مذہبی، پڑوسی، ثقافتی سمیت دیگر جہتوں کی بنیاد پر ہونے چاہیئے تھے۔ اگر یوں کہا جائے کہ دونوں برادر اسلامی ممالک ایک دوسرے سے وہ مفادات اٹھا سکتے، جس کی وجہ سے امت مسلمہ کو بے حد فائدہ پہنچتا تو غلط نہ ہوگا۔ یعنی دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید فروغ دیتے ہوئے تجارت، دفاع، سیاحت، مذہبی وابستگی سمیت دیگر شعبہ جات میں مفادات بڑھانے کی بے حد گنجائش موجود ہے۔ پاکستان اور ایران کے مابین 9 سو کلومیٹر کی سرحد موجود ہے اور اب تک صرف تفتان کے مقام پر آمد و رفت ممکن تھی، تاہم گذشتہ روز دونوں ممالک کے مابین ایک اور بارڈر کراسنگ کا افتتاح کیا گیا، دونوں ہمسایہ دوست ممالک کے درمیان گبد ریمدان کے مقام پر بارڈر کراسنگ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں پاکستان کی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال اور ایران کی جانب سے وزیر برائے روڈز اور اربن ڈیولیمپنٹ محمد اسلامی نے شرکت کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے بلوچستان و سیستان کے گورنر سید احمد علی مجتبیٰ اور ایران میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ وفاقی وزیر زبیدہ جلال کا اس موقع پر کہنا تھا کہ دوطرفہ تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں اس کراسنگ کے شروع ہونے سے خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور سرحدی باڑ لگانے سے سلامتی کی صورت حال بھی بہتر ہوگی۔ اس افتتاح کے موقع پر پاک ایران حکام نے دونوں ممالک کے درمیان بارڈر مارکیٹ کھولنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ علاوہ ازیں پاکستان میں ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی نے ایران و پاکستان کے درمیان کھلنے والی نئی سرحدی گذرگاہ ریمدان، گبد بارڈر کراسنگ کے حوالے سے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ریمدان گبد کے درمیان سرکاری بارڈر کراسنگ کے افتتاح کا دن دونوں برادر و ہمسایہ ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ایک تاریخی دن ہے۔ اقتصادی و تجارتی تعاون میں توسیع، سرحدوں کی صورتحال میں بہتری، سمگلنگ و غیر قانونی آمد و رفت کی روک تھام، دونوں ممالک کی عوام کے روابط میں توسیع، سرحدوں پر آباد عزیز عوام کی معاشی اور حمل و نقل کی سہولیات میں بہتری اس بارڈر کراسنگ کے فوائد میں سے ہے۔ ایک نئے بارڈر کراسنگ کا آغاز دونوں ممالک کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس کراسنگ کی اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ یہاں سے دونوں ممالک کی اہم بندرگاہیں یعنی ایران کی چاہ بہاد اور پاکستان کی گوادر انتہائی کم فاصلے پر موجود ہیں۔ جس کی وجہ سے اس بارڈر کراسنگ کو تجارتی حوالے سے ایک خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔ واضح رہے کہ برادر اسلامی ملک ایران کی کئی مصنوعات سمگل ہوکر پاکستان آتی ہیں، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کی حکومت کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا، اس بارڈر کیوجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بے پناہ فروغ ملے گا، اس کے علاوہ گبد ریمدان بارڈر سے پاکستانی زائرین بھی مقامات مقدسہ کی زیارات کیلئے جاسکیں گے۔ واضح رہے کہ یہ راستہ تفتان کی نسبت سکیورٹی نقطہ نگاہ سے بھی قدرے محفوظ ہوگا۔ اس بارڈر کو حکومت ایران کی جانب سے ریمدان اور پاکستان میں اس کا نام کلدان ہے، جیسا کہ پاکستانی سرحدی مقام کو تفتان اور ایران کی جانب سے اسی مقام کو میر جاوہ کہا جاتا ہے۔ ایران کی سی پیک میں شمولیت، بھارت کو چاہ بہار پراجیکٹ سے الگ کرنا اور ریلوے ٹریک جیسے اقدامات کے بعد دونوں ممالک کو تعلقات بڑھانے کا اہم موقع میسر آیا ہے۔ پاکستان کے ایران کیساتھ تعلقات پر ہمیشہ ہی سے امریکہ کا دباو رہا ہے، تاہم اس دباو کے باوجود اس نئے بارڈر کا افتتاح خوش آئند اور دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام کیلئے ایک نیا سنگ میل ہے۔ اس افتتاح سے امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت پاکستان مزید کسی بیرونی دباو کو خاطر میں لائے بغیر محض ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قسم کے مزید اقدامات کرے۔ بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات اور خاص طور پر خطہ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کیلئے چین کیساتھ ساتھ ایران جیسے ہمسائیہ اور برادر اسلامی ملک کا قرب ضروری ہے، تاکہ خطہ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مداخلت کو ختم کیا جائے اور ”شفٹ آف پاور“ کے عمل میں پاکستان اپنا مثبت رول ادا کرسکے۔ اسی طرح ایران کی حکومت کو بھی اعتماد کی فضاءکو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ دونوں اہم برادر اسلامی ممالک ایک دوسرے کا سہارا بن کر نہ صرف خطہ کی بہتری کیلئے کام کرسکیں بلکہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔ |


































