
عاشقانہ اہلیبیت (ع) کا احتجاج رنگ لے آیا، حکومت نے 20سال سے رویت ہلال کمیٹی سے چمٹے مفتی منیب کی چھٹی کردی، مولانا عبدالخبیر آزاد کو نیاچیئرمین بنادیا گیا
رویت ہلال کمیٹی میں بہتری لائیں گے اور تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلیں گے، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا حسین اکبر اور علی کرار نقوی کمیٹی میں شامل
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت نے 20سال سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مفتی منیب کی چھٹی کردی اور اس کی جگہ
لاہور کی شاہی مسجد کے پیش امام مولانا عبدالخبیر آزاد کو نیاچیئرمین بنادیا ہے،یہ تبدیلی اہل تشیع کے شدید احتجاج کے بعد عمل میں آئی ،اہل تشیع نے مفتی منیب کی مکتب تشیع کیخلاف ہرزہ سرائی پر شدید احتجاج کیا تھا اور رویت ہلال کمیٹی کے شیعہ ارکان نے مفتی منیب کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا اور اپنی علیحدہ رویت ہلال کمیٹی تشکیل دیدی تھی،حکومت نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے مفتی منیب کو عہدے سے ہٹادیا، مفتی منیب کا20سالہ دور تنازعات سے بھرپور رہا اور ملک میں کئی باردو دو عیدیں منائی گئیں ، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے نئے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا ہے کہ کوشش کریں گے کہ آئندہ ملک میں ایک ہی دن روزہ اور عید ہو، رویت ہلال کمیٹی میں بہتری لائیں گے اور تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلیں گے، کمیٹی میں شیعہ ارکان مولانا حسین اکبر اور علی کرار نقوی سمیت 19ارکان شامل ہوں گے، کمیٹی میں سپارکو، محکمہ موسمیات ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت مذہبی امور کے نمائندے بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے،عہدہ چھنتے ہی مفتی منیب نے نو تشکیل شدہ تحریک تحفظِ مساجد و مدارس کے سائے تلے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق قانون سازی پر حکومت مخالف مہم چلانے کا اعلان کردیا،مفتی منیب نے کہا کہ پارلیمان نے یہ قانون ایف اے ٹی کے دباوَ پر منظور کیا ، پاکستان میں مذہبی پابندیاں قابل قبول نہیں ہیں اور اگر حکام نے مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہم اس کی مزاحمت کریں گے


































